Home » » اب دیا ہی جلائو……!

اب دیا ہی جلائو……!

Written By Umair Ali Sarwar on Tuesday, January 1, 2013 | 11:05 PM



٭ یونیورسٹی آف ہریپور کے لیکچرر نے طلباء کو نماز پڑھنے سے روک دیا، دوسرے لیکچرر نے امتحان سے پہلے وفات پانے والے طالبعلم کو بھی پاس کر دیا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہفتہ وار چھٹی جمعۃ المبارک کے دن ہوتی تھی ہمارے ساتے معاملات ایک ترتیب سے چل رہے تھے ہر مسلمان جمعۃ المبارک کی نماز کیلئے تیاری کر کے آرام و سکون سے نماز پڑھ لیتا تھا، اور پھر جمعۃ المبارک کے دن کا تقدس بھی بحال رہتا مگر میڈ ان پاکستان بننے والے میاں محمد نواز شریف کے غیر ملکی آقا جمعہ کے دن کی چھٹی کرنے پر ناراض تھے اسلئے جمعہ کی چھٹی ختم کر کے اتوار کے دن کی چھٹی یہودیوں سے مناسبت رکھنے کیلئے کی گئی شاہد نواز شریف کی یہی بڑی غلطی تھی کہ دو تہائی اکثریت رکھنے کے باوجود ایک وزیر اعظم کو یوں کان سے پکڑ کر نہ صرف عہدے سے فارغ کیاگیا بلکہ ملک سے ہی نکال دیا گیا، بس وہ دن تھا ہمارے ملک میں سارے معاملات بے ترتیب ہو گئے ، یونیورسٹی آف ہریپور کے جن طلباء نے پروفیسر پر الزام لگایا ہے کہ ہم نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے جانا چاہتے تھے مگر پروفیسر نے جانے سے روک دیا اور کہاکہ جب تک میرا لیکچر ختم نہیں ہو جاتا آپ نہیں جا سکتے ، اب اللہ جانے یہ کہاں تک حقیقت ہے مگر ایک پروفیسر نے اگر ایسا کیا ہے تو یقینا وہ نواز شریف کا پیرو کار ہو سکتا ہے جہاں تک ایک لیکچرر کی جانب سے امتحان میں شرکت تو درکنار امتحان سے بھی پہلے ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونیوالے طالبعلم کو امتحانی نتائج میں پاس کرنیکا تعلق ہے ، تو یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ پہلے زندہ طلباء کی تعلیم پر توجہ دے بعد میں مرنے والوں پر ترس کھائے کیونکہ زندہ طلباء کو اگر نماز کی اجازت نہیں تو مرنے والے طلباء کو امتحان میں حاضر ظاہر کر کے پاس کرنیکا بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں ملے گا، وائس چانسلر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، ان کی محنت اور قابلیت پر کوئی شک نہیں لیکن یونیورسٹی کے حوالے سے جو لطائف سننے کو مل رہے ہیں وہ نہ صرف جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ اس سے یونیورسٹی کی نیک نامی پر بھی اثر پڑیگا، اور پھر کسی نئے ادارے کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے ۔
…٭…٭…
٭ سیاستدانوں کی سکیورٹی کیلئے صوبائی حکومتوں کو ان کی نگرانی کی خصوصی ہدایات جاری جبکہ سکیورٹی کی موجودہ حکمت عملی کا جائزہ لیاجا رہا ہے ۔
یوں تو پاکستان میں مخلص اور دیانتدار قیادت کا ہر دور میں فقدان رہا ہے لیکن موجودہ حکومت نے کرپشن میں پاکستانی تاریخ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ، اللہ بھلا کر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا جنہوں نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں سے موجودہ حکمرانوں کو لگام ڈال رکھی ہے ورنہ یہ بھوکے بھیڑیے کب کا ملک کو فروخت کر کے کھا چکے ہوتے ، آج اگر ملک میں بد امنی اور بے یقینی ہے تو اس کی بنیادی وجہ ملک میں عدم مساوات، کرپشن، لوٹ مار، زیادتی ، نا انصافی اور حق تلفی ہے ، اس ملک میں اگر دھماکے ہو رہے ہیں تو دھماکے کرنے والے خوشی سے خود کشی نہیں کر رہے ، کیونکہ ہر شخص کو اپنی جان عزیز ہوتی ہے لیکن جب نا انصافیوں اور زیادتیوں کی انتہاء ہو جائے جہاں زندگی عذاب بن جائے وہاں پھر دھماکے تو ہونے ہی ہیں، ہمارے سیاستدان لوٹ مار میں اتنے مصروف ہیں کہ ملک کو لوٹتے لوٹتے خود کش دھماکوں میں جان دے دیتے ہیں مگر کرپشن نہیں چھوڑتے ، لیکن دیگر سیاستدان بھی ان کے حشر سے کوئی سبق حاصل نہیں کر تے بلکہ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کیلئے حرام موت مرنے والوں کوبھی شہید قرار دیاجاتا ہے اور پھر لوٹ مار نئے عزم و حوصلے سے شروع کر دی جاتی ہے ، کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے حکمران لوٹ مار اور کرپشن کے تدارک کیلئے حکمت عملی تیار کریں ، لیکن ہماری قوم اتنی خوش قسمت کہاں کہ جنہوں نے خود ہی معاشرے کے ایسے کرپٹ افراد کو منتخب کر کے اسمبلیوں تک بھیجا جو مسلسل ان کا استحصال کر رہے ہیں عوام ایسی جمہوریت پر لعنت بھیجتے ہیں جس میں ان کی آواز نہ سنی جائے یا انہیں جائز حقوق بھی نہ مل سکیں حکومت اپنے کرپٹ سیاستدانوں کے تحفظ کیلئے چاہئے کتنے ہی سکیورٹی پلان تیار کرے اس ملک اور عوام کے ساتھ نا انصافی کرنیوالے سیاستدانوں کو اللہ تعالیٰ باعث عبرت بناتا رہے گا۔
…٭…٭…
٭ واپڈاملازمین نے پراپرٹی ڈیلر کا میٹر نصب کئے بغیر ہی ہزاروں روپے کا بل بھیج دیا، صارف کی جانب سے بل ادا نہ ہونے پر واپڈا اہلکار کنکشن کاٹنے پہنچ گئے ۔
ہمیں نہیں معلوم کہ واپڈا کا محکمہ کس نے بنایا تھا لیکن واپڈا ملازمین جتنے بدیانت، کرپٹ اور حرام خور ہیں، اتنے دوسرے کسی محکمے میں نہیں ہو سکتے ، کیونکہ قائد اعظم کے پاکستان کو اندھیروں میں ڈبونے والے یہی ملازمین ہیں جن کی بد اعمالیوں اور کالے کرتوتوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے ۔ اس وقت پاکستان کے دو ہی بڑے مسائل ہیں، ایک دہشتگردی اور دوسرا لوڈشیڈنگ ہے ، اگر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے تو ملک میں صنعتیں، فیکٹریاں اور کارخانے دوبارہ چلنے شروع ہو جائیں گے ، نوجوانوں کو باعزت روزگار مل جائیگا اور مہنگائی میں بھی کمی آجائیگی جس سے معاشرہ خوشحال ہو جائیگا اور خوشحال معاشرے میں کبھی بد امنی نہیں آتی ، ہم موجودہ حالات کے تناظر کو مد نظر رکھ کر بڑی ذمہ داری سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ واپڈا ملازمین کا قبلہ درست کر لیاجائے تو تمام برائیاں ختم ہو جائیں گی ، ایک پراپرٹی ڈیلر نے میٹر نصب کروانے کیلئے واپڈا دفتر میں ڈیمانڈ نوٹس جمع کروایا، کئی ماہ تک چکر لگانے کے بعد ایک واپڈا اہلکار آیا اور مالک کو بجلی کا پیک شدہ میٹر تھما کر چلا گیا، ایک ماہ تک کوئی واپڈا اہلکار تو نہیں آیا البتہ بجلی کا بل آگیا تھا جس پر صرف شدہ یونٹ141 درج تھے اور اس کا بل 4182 روپے تھا مالک کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ میٹر کی ابھی تک پیکنگ بھی نہیں کھولی گئی یہ بل کیسے آگیا، پھر اس نے بل جمع نہیں کروایا مقررہ تاریخ سے اگلے دن واپڈا اہلکار کنکشن کاٹنے اور میٹر اتارنے کیلئے آگیا تو مالک مکان نے واپڈا اہلکار کو بجلی کا بل اور پیک شدہ میٹر بھی اس شکریہ کے ساتھ واپس کر دیا کہ واپڈا جیسے کرپٹ محکمے سے میرے باپ دادا کی توبہ اس سے تو دیا جلا لینا ہی بہتر ہے ۔

0 comments:

Join us on Faceebook