Home » » نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی!

نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی!

Written By Umair Ali Sarwar on Friday, January 4, 2013 | 11:09 PM



٭ محکمہ پی ٹی سی ایل کے ستائے عوام نے درخواستیں دے کر کنکشن ختم کروائے مگر تین سالوں کے بعد محکمہ نے پھر بھاری بل بھیج کر ٹیلی فون صارفین کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔
ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے عوام کا سرکاری اداروں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے محکمہ واپڈا کے افسران اور اہلکاروں کی چور بازاری کی وجہ سے آج نہ صرف پورا ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے بلکہ کارخانے ، فیکٹریاں اور دیگر کاروباری افراد کو جس بحران کا سامنا ہے اس کی حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، سوئی گیس کا بحران بھی اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے ایسی صورتحال ہی کی بدولت پی ٹی سی ایل کو نجی تحویل میں دیا گیا تا کہ اسے مزید خسارے اور تباہی و بربادی سے نکال جا سکے مگر ملازمین نے اس کوبھی ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، بے شک موبائل سروس کے آنے کے بعد پی ٹی سی ایل کے ستائے عوام نے اس سے چھٹکارہ حاصل کرلیا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ٹی وی چینلوں کے آنے سے اخبارات پر کوئی اثر نہیں پڑتا مگر جب ملازمین خود ہی دیمک کی طرح اندر ہی اندر سے اسے چاٹ کھائیں گے تو پھر اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے صارفین پر بے جا بوجھ ڈالا جاتا ہے تو اس سے صارفین پی ٹی سی ایل سے مزید متنفر ہو جاتے ہیں جن صارفین نے کئی سال پہلے پی ٹی سی ایل ملازمین کی کرپشن اور لوٹ مار سے تنگ آکر کنکشن ختم کروا دئیے ہیں انہیں دو تین سال بعد بل بھیجنا کہاں کا انصاف ہے اب تو ایسے صارفین یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ہم تو کمبل کو چھوڑ رہے ہیں مگر کمبل ہمیں نہیں چھوڑ رہا۔
…٭…٭…
٭ای او بی آئی کی ملکیت صوبوں اور وفاق میں رسہ کشی جاری ، وفاق نے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کے حوالے کرنے کے باوجود ملکیت صوبوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔
ای او بی آئی کے قیام کا مقصد ایسے تمام کارخانوں، فیکٹری، دفاتر، ہوٹلوں اور دیگر اداروں میں جہاں پانچ افراد سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں ان کی رجسٹریشن کر کے ادارے سے ماہانہ 420 روپے فی کس وصول کئے جاتے ہیں تاکہ جب رجسٹرڈ افراد اس ادارے سے ملازمت چھوڑیں گے تو انہیں پنشن دی جائیگی، یوں سمجھ لیجئے کہ سرکاری ملازمین کی طرح پرائیویٹ ملازمت کرنیوالوں کوبھی پنشن کی ادائیگی کی جاتی رہے گی ، بظاہر تو یہ ایک اچھا منصوبہ ہے لیکن ماہانہ جو فیس مقرر کی گئی ہے اس کے فگر نہ صرف انتہائی دھوکہ دہی اور فراڈ سے تشبیہ دی جاتی ہے بلکہ اس کا مذاق اڑیاجاتا ہے لوگ ویسے بھی دھوکہ یا فراڈ کرنیوالے کو420 کے نام سے پکارتے ہیں تو جب ایک فرد ماہانہ420 روپے کی باقاعدہ فیس کی ادائیگی کرتا ہو تو اسے کس نام سے پکارا جائیگا،کیا ان فگر میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی یا اس کے علاوہ کوئی مہذب طریقہ کار نہیں، ای او بی آئی کے تحت ملک بھر میں اس وقت54 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہیں جن میں سے صرف4 لاکھ 97 ہزار931 افراد کو پنشن دی جاتی ہے ، اسی لئے ای او بی آئی کے پاس اس وقت242 ارب روپے کا فنڈ موجود ہے جو وفاقی حکومت اپنی عیاشیوں پر اڑائے گی جب تک یہ فنڈ خرچ نہیں ہو جاتا اس وقت تک ای او بی آئی کی ملکیت وفاق صوبوں کے حوالے نہیں کریگا، اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام سے دھوکہ اور فرا ڈسے بٹورے گئے اربوں روپے کے فنڈ پر کب ڈاکہ پڑتا ہے ؟
…٭…٭…
نواں شہر میں مرغوں کی لڑائی ، پولیس نے چھاپہ مار کر32 ہزار500 کی رقم بر آمد کر کے جواریوں کوبھی گرفتار کرلیا، اور مرغوں کو بھی تھانہ میں بند کر دیا، نواں شہر تھانہ ساری رات مرغوں کی اذانوں سے گونجتا رہا۔
پرانے لوگوں کو کہنا تھا کہ جو ا کسی کا نہ ہوا مگر آج کے دور میں بہت سے لوگ جوئے ہی کی بدولت ان کے گھروں میں امیری نے دستک دی ، لیکن شرط یہ ہے کہ جوئے کے ذریعہ امیر ہونے کیلئے پولیس کو نہ صرف اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے بلکہ بابا جی کی نذر و نیاز اور شکرانے کی طرح پولیس والوں کا حصہ بھی نکالنا اب ضروری ہو گیا ہے ورنہ کسی بھی وقت پولیس کا چھاپہ پڑنے سے نہ صرف جوئے پر لگی رقم پولیس کے ہاتھ لگ جاتی ہے بلکہ عزت سادات کی بدنامی اور مفت کی جیل یاترا بھی ہو سکتی ہے ، ویسے آج کل کا سیاستدان بھی تو بڑا جواری ہوتا ہے جو کروڑوں روپے اپنی الیکشن مہم پر لگا کر عوام کی خدمت کا جذبہ لئے درد ر کی ٹھوکریں کھاتا ہے اس امید پر کہ کل جب وہ الیکشن جیت جائیگا تو یہ ووٹر اس کی تلاش میں اسی طرح ذلیل و رسوا ہونگے کرکٹ میچ پر جوا، کتوں کی لڑائی، مرغوں کی لڑائی اور دیگر کئی ایسے ذرائع ہیں جن کے نام پر جوئے جیسے مکروہ فعل سے فیض یاب ہو جاتے ہیں نواں شہر پولیس نے ہزاروں روپے جواریوں سے بٹورنے کے بعد مرغوں پر بھی ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی مگر مرغوں نے اپنی جان کی آمان کیلئے ساری رات نہ صرف جاگنا گوارہ کیا بلکہ اذانیں دیکر پولیس والوں کو یہ احساس دلاتے رہے کہ وہ اپنی جان کے تحفظ کیلئے نیند قربان کر سکتے ہیں مگر غفلت کے مرتکب نہیں ہو سکتے ۔
…٭…٭…
٭ صوبائی حکومت نے اقتدار کے آخری دنوں میں سرکاری محکموں میں انسداد کرپشن بورڈ آویزاں کر دئیے جس میں سرکاری محکموں میں کرپشن کی روک تھام کیلئے پر عزم رہنے کا دعویٰ کیا ہے ۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 2011 ء کی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیاتھا کہ ملک بھر میں خیبرپختونخوا کرپٹ ترین صوبہ قرار پایا ہے ساڑھے چار سالوں کے دوران صوبائی حکومت نے کرپشن کے جو ریکارڈ توڑے ہیں انہیں گینز بک میں لکھاجانا چاہئے کیونکہ صوبائی حکومت نے کرپشن میں’’ ایزی لوڈ‘‘ سے ایسی شہرت پائی کہ دنیا کا کوئی ایسا کام نہیں جو ایزی لوڈ سکیم کے تحت نہ ہو سکتا ہو۔ کل تک سینما گھروں میں فحش فلمیں چلا کر گھر کی دال روٹی پوری کرنیوالے آج اربوں روپے کے مالک کیسے بن گئے ، گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران ان کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی آگئی ہے کہ کل کے کنگلے آج کے کروڑ پتی بن گئے ہیں۔ اگرچہ ہمارے سیاستدان کرپشن کی دلدل میں گھٹنوں تک دھنسے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی آنکھ بھوکی ہے مگر صوبائی حکومت نے اپنی مدت کے آخری دنوں میں انسداد کرپشن مہم کا آغاز کرتے ہوئے مختلف سرکاری محکموں میں انسداد کرپشن بورڈ آویزاں کر دئیے ہیں سرکاری ملازمین کو مذکورہ انسداد کرپشن بورڈ کے ذریعے آگاہ کیاگیا ہے کہ کرپشن ایک لعنت ہے اور کرپشن کرنیوالا ملک کا دشمن ہے ، سرکاری ملازمین کو آئندہ کرپشن کرنے کی صورت میں رشوت خوری کی سزائوں سے ڈرایا گیا ہے مگر بلدیاتی نظام کے تحت تھوک کے حساب سے لاکھوں روپے کے عوض نوکریاں خریدنے والے افسران میں سے اکثریت کی زبان پر ہے کہ’’ نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی‘‘!

0 comments:

Join us on Faceebook