Home » » کچھ تو خوف خدا کیجئے

کچھ تو خوف خدا کیجئے

Written By Umair Ali Sarwar on Tuesday, January 1, 2013 | 11:11 PM



٭ خانپور کے عوام کا کہنا ہے کہ ہم میٹر ریڈروں کا چہرہ دیکھنے کیلئے بھی ترس گئے ہیں فرضی بلوں اور بجلی کے میٹروں کی ریڈنگ میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔
یوں تو ہمارے سارے ہی سرکاری محکمے کرپشن اور لوٹ مار میں خود کفیل ہیں لیکن واپڈا ایک ایسا محکمہ ہے جس میں بھرتی ہونے کے لئے ڈھیت، بد کار اور بدیانت ہونا شرط ہے کیونکہ اس محکے میں حرام خوری اتنی عام ہے کہ جس کی دنیا میں مثال نہیں دی جا سکتی ، واپڈا اہلکاروں کی ان سیاہ کاریوں کی وجہ سے بجلی کابحران اس حد تک شدت اختیار کر گیا ہے کہ بلوں کی کئی گنا زیادہ ادائیگی کے باوجود عوام زندگی سے عاجز آچکے ہیں کیونکہ توانائی بحران کی وجہ سے ملک میں فیکٹریاں اور کارخانے بند ہونے کے ساتھ ساتھ چھوٹے تاجروں کے کاروبار بھی ختم ہو گئے ہیں جس سے  بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی وجہ سے عوام کیلئے زندگی کسی عذاب سے کم نہیں جس طرح واپڈا میں افسران حرام خور اور کرپٹ ہیں اسی طرح میٹر ریڈر اہلکار بھی کام چور اور حرام خوری کے عادی ہو چکے ہیں ، خانپور کے عوام کی طرح دیگر لوگوں کے ساتھ بھی واپڈا کے میٹر ریڈروں کا یہی سلوک ہے ، اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو گی کہ عوام کا سرکاری اداروں سے اعتماد اٹھ گیا ہے ۔
…٭…٭…
٭واپڈا کے اہلکار خراب ٹرانسفارمر ٹھیک کروانے کیلئے 70 افرا دسے فی کس200 روپے لے گئے، دو ہفتے گزرنے کے باوجود ٹرانسفارمر واپس نہ لایا جا سکا۔
اگر واپڈا جیسے کرپٹ محکمے کے بدیانت اور رشوت خور ملازمین کی بخشش ہو گئی تو پھر واپڈا کے ظلم و ستم کے ستائے عوام کیلئے جہنم سے چھٹکارہ آسان ہو جائیگا، کیونکہ واپڈا ایک ایسا محکمہ ہے جو عوام کو بجلی فراہمی کے بغیر ہی باقاعدگی سے بلوں کی وصولی کر رہا ہے اگر ہم دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں رہ رہے ہوتے تو ہمارے ساتھ اس ناروا سلوک کا نوٹس لیاجاتا مگر ہم تو اتنے کرپٹ معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں رشوت خوروں کو نفرت کے بجائے عزت سے دیکھا جاتا ہے ، لورہ کے علاقہ کوٹلی ڈنہ سے واپڈ ااہلکار ایک ہفتہ قبل 14 ہزار روپے بھی لے گئے اور ابھی تک ٹرانسفارمر ٹھیک کر کے نہیں لائے جس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں واپڈ ااہلکاروں کے روپ میں نوسرباز ان سے ہاتھ نہ کر گئے ہوں کیونکہ واپڈ ااہلکار بھی تو بڑے نوسربازہیں۔
…٭…٭…
٭حویلیاں پولیس نے پسند کی شادی کرنیوالے نوجوان کے سالوں سے بھاری رشوت لیکر بہنوئی پر  منشیات کا مقدمہ  بنا کر9C کا پرچہ دلوا کر جیل بھیجوا دیا۔
پولیس کا محکمہ اتنا بدنام ہو چکا ہے کہ اب کوئی شریف شخص پولیس میں بھرتی ہونا تو درکنار ان کا منہ دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا، پولیس اہلکار عوام کے محافظ کے بجائے اب کیلئے دہشت اور خوف کی علامت بن چکے ہیں جو عوام کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں کسی کی جیب میں چرس یا پائوڈر ڈالنا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے ، حویلیاں میں جس نوجوان کی جیب میں 1500 گرام چرس ڈال کر اس کیخلاف9c کا پرچہ دیاگیا اس نے باقاعدہ کورٹ میرج کی تھی لیکن اس کے سالوں سے بھاری رشوت لیکر منشیات فروش بنا دیاگیا، جس سے اسے مانسہرہ جیل میں بھیج دیا گیا، سپرنٹنڈنٹ جیل نے انوسٹی گیشن انچارج میاں رضا کو اس کیس کی انکوائری کیلئے درخواست بھی دی ہے لیکن پولیس سے انصاف کی توقع رکھنا دن کو رات کہنے کے مترادف ہے ۔
…٭…٭…
٭ٹریفک پولیس اہلکاروں نے گاڑیوں کے چالان کرنے کے بجائے رشوت خوری پر زور دے رکھا ہے ٹریفک پولیس اہلکار نے رشوت لینے کے باوجود جھوٹا کلمہ پڑھ کر جان چھڑا لی ۔
پرانے وقت گزر گئے ہیں جب سرکاری اہلکار اپنی ڈیوٹی دیانتداری سے سر انجام دینا اپنا اولین فرض سمجھتا تھا، آج کے سرکاری ملازمین رشوت وصولی کو اپنا حق سمجھتے ہیں ، ہم نے پہلے بھی متعدد مرتبہ اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار کو جرمانوں کی مد میں نقد رقوم وصول کرنے کا اختیار دینا کرپشن اور رشوت خوری کو فروغ دینے کے مترادف ہے اور شاہد ہی دوسرے کسی شہر یا ملک میں اس کی مثال ملتی ہو مگر ہمارے ہاں سرکاری قوانین کی افسران اور ادارے پہلے خود خلاف ورزی کرتے ہیں جس پر عوام بھی قوانین پر عملداری کے پابند نہیں رہتے ، ٹریفک پولیس ایبٹ آباد میں شاہد ہی کوئی ایسا فرشتہ صفت اہلکار موجود ہو جو رشوت خوری کو گناہ سمجھتا ہوں، ہر پولیس اہلکار کی کئی کئی سوزوکی گاڑیاں ہیں اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ٹریفک پولیس اہلکار اپنے افسر کو خوش کئے بغیر ایک دن بھی ٹریفک پولیس میں نہیں رہ سکتا خواہ انہیں جھوٹے کلمے پڑھنا پڑیں یا جھوٹی قسمیں کیونکہ اس کی اب کوئی پروا نہیں کرتا خوف خدا جو ختم ہو گیا ہے ۔

0 comments:

Join us on Faceebook